جمعہ، ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶ء حیدرآباد۲۶°ابر آلود
روزنامہ · حیدرآباد، تلنگانہ
بانی: معین فاروقی مرحوم
صفحۂ اول پر واپس →
عالمی

یورپی بحری راستوں سے انسانی سمگلروں کو 50 کروڑ ڈالر کی آمدنی

یو این نیوز · بدھ، ۲۱ اکتوبر ۲۰۲۶ء

اصل اشاعت: یو این نیوز · اقوام متحدہ کے شکریے کے ساتھ شائع · اصل خبر ↗

© UNHCR/Amanda Jufrian

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم(یو این او ڈی سی) اور عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال یورپ کی جانب سمندری راستوں پر انسانی سمگلنگ کا کاروبار 50 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا تھا۔

'آئی او ایم' کے ایک جائزے کے مطابق، شمالی افریقہ یا ترکیہ سے اٹلی اور مالٹا پہنچنے کے لیے سمگلروں کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے تقریباً نصف تارکین وطن نے بتایا کہ انہوں نے فی کس 7,500 ڈالر سے زیادہ رقم ادا کی۔

اس کے مقابلے میں دیگر سمندری راستوں پر سمگلنگ کے اخراجات نسبتاً کم ہیں۔ شمال مغربی افریقہ سے بحر اوقیانوس کے راستے سپین کے جزائر کینیری تک پہنچانے کے لیے سمگلروں کو فی کس 170 ڈالر تک ملتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک سمندری راستہ ہے جہاں لوگ شمال مغربی افریقہ کے ساحلوں سے کھلی اور غیر محفوظ کشتیوں میں سوار ہو کر سفر کرتے ہیں۔

مصروف ترین ہجرتی راستے

اس مسئلے پر دونوں اداروں کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، 2025 میں یورپ کے چار بڑے سمندری راستوں سے تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار سے دو لاکھ 9 ہزار تک لوگوں کو سمگل کیا گیا۔

ان میں سب سے زیادہ مصروف راستہ وسطی بحیرہ روم کا تھا جہاں سے 84 ہزار سے ایک لاکھ 400 تک لوگ سمگل کیے گئے۔ مشرقی بحیرہ روم کا راستہ دوسرے نمبر پر رہا جہاں سے 48 ہزار 400 سے 51 ہزار 300 تک افراد نے سفر کیا۔ یہ راستہ ترکیہ، لیبیا اور مشرق وسطیٰ سے یونان، قبرص اور بلغاریہ کی جانب جاتا ہے۔

شمال مغربی افریقہ سے بحر اوقیانوس جانے والا راستہ تیسرے نمبر پر رہا جہاں سے تقریباً 33 ہزار افراد کو سمگل کیا گیا۔ آخر میں مغربی بحیرہ روم کا راستہ آتا ہے جو شمالی اور مغربی افریقہ کو سپین سے ملاتا ہے۔ اس راستے سے تقریباً 24 ہزار 500 افراد کو سمگل کیا گیا۔

بحری سفر میں 3,404 ہلاکتیں

دونوں اداروں کے مطابق، یورپ پہنچنے کے لیے سمگلروں کو بھاری رقوم ادا کرنے والے بہت سے افراد اپنی منزل تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ گزشتہ سال ان سمندری راستوں سے سفر شروع کرنے والے افراد میں سے 3,404 موت کا شکار یا لاپتا ہو گئے۔ علاوہ ازیں، ایک لاکھ 4 ہزار 200 افراد کو سمندر میں روک کر واپس بھیج دیا گیا۔

'یو این او ڈی سی' کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد یہ جرم مالی منافع کمانے کے لیے کرتے ہیں۔ تاہم، ادارے نے واضح کیا ہے کہ سمندری راستوں سے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تمام افراد لازمی طور سے سمگلروں کی مدد سے سفر نہیں کرتے۔

ادارے کا اندازہ ہے کہ، 2025 میں وسطی بحیرہ روم کے راستے سفر شروع کرنے والے افراد میں سے 72 سے 86 فیصد تک انسانی سمگلنگ کا شکار تھے یا سمگلروں کی مدد سے سفر کر رہے تھے۔ شمال مغربی افریقہ سے بحر اوقیانوس کے راستے سفر کرنے والوں میں یہ شرح 73 سے 83 فیصد کے درمیان رہی۔

مغربی بحیرہ روم کے راستے پر یہ شرح 57 تا 90 فیصد جبکہ مشرقی بحیرہ روم کے راستے پر 75 سے 90 فیصد کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔