سات دہائیاں، اور انگارے آج بھی روشن
شہر کے جاگنے سے پہلے، جب فجر کی اذان کی صدا مدھم ہو رہی ہوتی ہے اور چائے کی پہلی پیالی تیار ہوتی ہے، انگارے دہلیز پر پہنچ چکا ہوتا ہے۔ کم ہی قاری یہ سوچتے ہیں کہ یہ سفر کیسے شروع ہوا۔ اس کا آغاز انگارے کے بانی معین فاروقی مرحوم سے ہوا۔ سات دہائیوں سے زیادہ گزر جانے کے بعد بھی ان کے روشن کیے ہوئے انگارے آج تک دہک رہے ہیں۔
بانی کو خراجِ عقیدت

اپنے شہر کی آواز
ان کا یقین ایک سادہ مگر نایاب بات پر تھا کہ حیدرآباد کے لوگ اپنی زبان میں سچ پڑھنے کے حقدار ہیں، اس زبان میں جو ان کے گھروں کی، ان کے شاعروں کی اور ان کی دعاؤں کی زبان ہے۔ اردو ان کے لیے محض لکھنے کی زبان نہیں تھی، یہ ان کے جینے کی زبان تھی، اور انہوں نے اسے وہ آواز دی جو ہر صبح اپنے قارئین سے ہمکلام ہوتی ہے۔
اخبار شروع کرنا ہمت، یقین اور انتھک محنت مانگتا تھا۔ انہوں نے یہ تینوں نذر کیں، اور آغاز کر دیا۔ آج آپ یہاں جو بھی لفظ پڑھ رہے ہیں، اس کا سرا اسی آغاز سے جا ملتا ہے۔
’انگارے‘ ہی کیوں
انہوں نے اپنے اخبار کا نام ’انگارے‘ رکھا۔ وہ شعلہ نہیں جو لمحہ بھر چکاچوند کر کے بجھ جائے، بلکہ وہ مستقل حرارت جو طویل ترین رات بھی جھیل جائے اور جس سے ہمیشہ نئی آگ سلگائی جا سکے۔
ان کے کام کے لیے اس سے بہتر نام ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اخبار کبھی مکمل نہیں ہوتا؛ اسے ہر روز نئے سرے سے بنانا پڑتا ہے، ڈیڈ لائنوں کے دباؤ میں اور جاگتی راتوں میں، کٹھن اور خوشگوار موسموں میں، اس خاموش صبر کے ساتھ جو قاری کو کم ہی دکھائی دیتا ہے۔
پریس کونسل آف انڈیا میں
ان کا وقار حیدرآباد سے کہیں آگے تک پہنچا۔ 1979 میں جب ایمرجنسی کے بعد پریس کونسل آف انڈیا دوبارہ قائم ہوئی تو معین فاروقی مرحوم کو اس کا رکن نامزد کیا گیا۔ پریس کونسل وہ قومی ادارہ ہے جو صحافت کی آزادی اور ہندوستانی اخبارات کے معیار کی نگہبانی کرتا ہے، اور وہ اس میں ملک کے اخبار مالکان کی نمائندگی کرتے تھے۔
1988 میں انہیں دوبارہ نامزد کیا گیا۔ یوں دو مرتبہ وہ حیدرآباد کے ایک اردو روزنامے، انگارے، کی جانب سے اس میز پر بیٹھے، دی اسٹیٹس مین اور دینک جاگرن جیسے بڑے اخبارات کے سربراہوں کے ساتھ۔ ان کی بدولت حیدرآباد کی اردو صحافت کو اس ایوان میں جگہ ملی جہاں ہندوستانی صحافت کے معیار طے ہوتے تھے۔
- رکن، پریس کونسل آف انڈیا، 28 فروری 1979 تا 27 فروری 1982
- رکن، پریس کونسل آف انڈیا، 28 ستمبر 1988 تا 27 ستمبر 1991
صبح کے اخبار کی خوشی
ذرا ان صبحوں کا تصور کیجیے جو انگارے نے اپنے قارئین کے ساتھ گزاریں۔ کہیں چائے کی پیالی کے ساتھ سرخیاں بلند آواز میں پڑھتے والد، کہیں اپنے محلے کی خبر تلاش کرتی دادی جان، اور کہیں اسکول کے لیے احتیاط سے کوئی مضمون کاٹتا طالب علم۔ اور اب، خلیج میں بسا کوئی خاندان، جو گھر سے ذرا قریب ہونے کے لیے ای پیپر کھولتا ہے۔
یہ سب چھوٹے چھوٹے لمحے ان کی کامیابی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے محض ایک اخبار نہیں بنایا، بلکہ پوری برادری کو اس کی صبحوں کا ایک رفیق دیا۔
نسلوں پر پھیلی میراث
اخبار کی کامیابی ایک دن میں نہیں ناپی جاتی، دہائیوں کے اعتماد سے ناپی جاتی ہے، اور اس پیمانے پر انگارے کی کہانی جشن کی حقدار ہے۔
انگارے، رجسٹرار آف نیوز پیپرز فار انڈیا کے پاس نمبر 3234/1957 کے تحت رجسٹرڈ ہے، اور یہی نمبر آج بھی ہر شمارے پر چھپتا ہے۔
جو بچے کبھی اپنے والدین کو انگارے کھولتے دیکھتے تھے، آج وہ اسے اپنے بچوں کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ بہت سے قارئین کبھی معین فاروقی مرحوم سے نہیں ملے، پھر بھی وہ ساری زندگی انہیں جانتے رہے، ہر اس صفحے کے ذریعے جو ان کی بدولت ممکن ہوا۔
جو وہ ہمیں دے گئے
- سچ، صاف صاف اور بے خوف۔
- آزاد صحافت، جس کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہوا جائے۔
- قارئین سب سے پہلے، ہمیشہ۔
- اردو سے محبت، اور حیدرآباد پر فخر۔
- صبح بہ صبح حاضر رہنے کا صبر۔
- تجارت سے پہلے کردار، اور آسانی سے پہلے حوصلہ۔
یہی وہ اقدار ہیں جن پر ہم آج بھی کاربند ہیں۔ یہ ان کا تحفہ ہے، انگارے سے وابستہ ہر فرد کے لیے، اور ہر اس قاری کے لیے جس نے کبھی اس پر بھروسا کیا۔
انگارے آج بھی دہک رہے ہیں
ادارے بنانے والے کم ہی یہ دیکھ پاتے ہیں کہ ان کا کام کہاں تک پہنچا۔ ہمارا دل کہتا ہے کہ اگر وہ آج انگارے کو دیکھتے تو مسکرا اٹھتے۔ ان کا اخبار آج بھی ہر صبح قارئین تک پہنچتا ہے، اور اب ای پیپر اور اس ویب سائٹ کے ذریعے اردو اور انگریزی میں دنیا بھر کا سفر کرتا ہے۔
دکن کی تہذیب میں پیوست اور اردو زبان سے وفادار، انگارے اسی مقصد کے ساتھ ڈیجیٹل دور میں قدم رکھ رہا ہے جو بانی نے اسے دیا تھا، یعنی سچ بیان کرنا اور اپنے قارئین کے لیے دنیا کا دریچہ بننا۔
ہم انہیں محبت اور شکرگزاری کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ ہماری ہر سرخی، ہر چھپا ہوا صفحہ اور ہر خبر، اپنے چھوٹے سے انداز میں، اس شخص کا جشن ہے جسے ایک انگارے کی طاقت پر یقین تھا۔
سات دہائیاں، اور انگارے آج بھی روشن۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
آج کی قیادت

آج انگارے کی قیادت بانی کے بھتیجے قدیر فاروقی کر رہے ہیں، جو اخبار کے ایڈیٹر اِن چیف، پرنٹر، پبلشر اور مالک ہیں، اور اس اعتماد کو آگے بڑھا رہے ہیں جو ان کے چچا نے اس اخبار پر کیا تھا۔
انہوں نے اخبار کی ذمہ داری ایک ایسے دور میں سنبھالی جب بہت سے اخبارات، اور خاص طور پر اردو اخبارات، اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔ اخراجات بڑھ رہے تھے، قارئین اسکرینوں کی طرف جا رہے تھے، اور کئی معتبر اخبار ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ ان کی قیادت میں انگارے نے اپنے قارئین سے کیا ہوا وعدہ نبھایا ہے۔ یہ آج بھی پریس سے نکلتا ہے، اور آج بھی صبح بہ صبح ان کی دہلیز تک پہنچتا ہے۔
انہوں نے اخبار کو کبھی محض چلائے رکھنے کی چیز نہیں سمجھا، بلکہ ہمیشہ اسے بہتر بنانے کی فکر کی۔ انہوں نے اس بات پر خاص توجہ دی کہ انگارے قاری کے ہاتھ میں کیسا دکھائی دے۔ چھپائی پہلے سے زیادہ نکھری، تصویریں زیادہ واضح اور صفحات زیادہ صاف ستھرے اور منظم ہوئے، تاکہ سات دہائیوں کی تاریخ رکھنے والا یہ اخبار آج کا اخبار محسوس ہو۔
وہ یہ بھی جلد بھانپ گئے کہ قارئین کس سمت جا رہے ہیں۔ انہوں نے انگارے کو ای پیپر کی صورت میں آن لائن پیش کیا، تاکہ گھر سے دور بسا قاری بھی اسی صبح وہی صفحات پلٹ سکے جو پرانے شہر کا قاری پلٹتا ہے۔
یہ ویب سائٹ اسی سفر کا اگلا قدم ہے۔ یہ انگارے کو اردو اور انگریزی میں نئی نسل تک پہنچاتی ہے، دن بھر حیدرآباد، تلنگانہ، ہندوستان اور دنیا بھر کی خبروں کے ساتھ، جبکہ چھپا ہوا اخبار بدستور اس کا دل ہے۔
اس ساری تبدیلی کے دوران انہوں نے سب سے اہم چیز کو نہیں بدلنے دیا۔ انگارے آج بھی صاف بات کہتا ہے، آج بھی سچ کے ساتھ کھڑا ہے، اور آج بھی سب سے پہلے حیدرآباد اور تلنگانہ کے اردو قارئین کی خدمت کرتا ہے۔ وہ اپنی ٹیم کی رہنمائی اسی صبر اور محنت سے کرتے ہیں جس پر یہ اخبار قائم ہوا، اور نیوز روم سے پریس تک اس کی تیاری میں شریک ہر ہاتھ کی قدر کرتے ہیں۔
معین فاروقی مرحوم نے انگارہ روشن کیا۔ قدیر فاروقی نے اسے دہکتا رکھا، اور اس کی روشنی ایسے قارئین تک پہنچائی جو بانی کے زمانے میں اس کی پہنچ سے بہت دور تھے۔