جمعہ، ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶ء حیدرآباد۲۶°ابر آلود
روزنامہ · حیدرآباد، تلنگانہ
بانی: معین فاروقی مرحوم
صفحۂ اول پر واپس →
عالمی

غیر معمولی ال نینو سے بری طرح متاثرہ ممالک کی فوری امداد کا مطالبہ

یو این نیوز · بدھ، ۲۱ اکتوبر ۲۰۲۶ء

اصل اشاعت: یو این نیوز · اقوام متحدہ کے شکریے کے ساتھ شائع · اصل خبر ↗

© WFP/Giulio d'Adamo

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) اور ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ ال نینو سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک کے لوگوں کو ضروری امداد فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

'ڈبلیو ایم او' کی سیکرٹری جنرل سیلسٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ حالیہ ال نینو کی شدت گزشتہ چار دہائیوں سے موسم کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے پیمانوں کی حدود سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ رواں سال کے آخر میں اس کے اثرات شدید تر ہو جائیں گے جو طویل مدتی طور پر محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

ادارے کی پیش گوئی کے مطابق، نومبر 2026 سے جنوری 2027 کے دوران استوائی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے 3.8 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو سکتا ہے۔ بحرالکاہل کا یہ خطہ ال نینو کے موسمیاتی مظہر کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں معمول کے مقابلے میں محض 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ بھی ال نینو سے متعلق انتباہ جاری کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اگر درجہ حرارت میں فرق 3.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تو اس کے بدترین اثرات کی کوئی تاریخی مثال موجود نہیں ہو گی۔

سائنسی پیش گوئی اور انتباہی نظام

سیلیسٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ ماضی میں درجہ حرارت میں 3 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ کرنے والے ال نینو نے دنیا بھر میں انتہائی سنگین اثرات مرتب کیے تھے، لیکن اب صورت حال ان حدود سے بھی آگے بڑھ رہی ہے جن کا ریکارڈ موجود ہے یا جن کے بارے میں اعداد و شمار کی بنیاد پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے ضروری اقدامات کی اپیل کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ال نینو کی شدید صورت لازمی طور سے کسی انسانی بحران یا بڑے پیمانے پر تباہی کا پیش خیمہ نہیں ہوتی۔ ایسی سائنسی پیش گوئیاں موجود ہیں اور پیشگی انتباہی نظام بھی ہیں جو جانیں بچانے اور لوگوں کے روزگار اور ذرائع معاش کو محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

5 کروڑ افراد کو بھوک کو سامنا

اوچا کے سربراہ ٹام فلیچر نے ال نینو کو تباہ کن طاقت قرار دیا ہے جو لاطینی امریکا، مشرقی اور جنوبی افریقہ، ایشیا اور بحرالکاہل کے خطوں میں شدید گرمی، خشک سالی اور سیلاب لا سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ال نینو سے وابستہ انسانی بحران کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے آئندہ دو ہفتے فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔ صومالیہ، ایتھوپیا اور کینیا کو شدید بارشوں کی آمد سے پہلے فوری طور پر مالی وسائل اور ہنگامی امدادی سامان فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

جنوبی افریقہ میں ترجیح یہ ہے کہ کسانوں کو بیج فراہم کیے جائیں اور مویشیوں کو محفوظ بنایا جائے جبکہ وسطی امریکا میں لوگوں کے ذرائع معاش کے تحفظ کے لیے فوری مدد درکار ہے۔

ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک کو بھی خشک سالی، سیلاب اور سمندری طوفانوں سمیت مختلف موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ اس موسمیاتی مظہر کے باعث پانچ کروڑ افراد کو خوراک کی قلت اور بھوک کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے افریقی ترقیاتی بینک کے ایک تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ال نینو کے باعث افریقی ممالک کو 10 سے 20 ارب ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے اور ان کے جی ڈی پی میں ایک سے دو فی صد تک کمی آ سکتی ہے۔

11 ممالک کے لیے ہنگامی امداد

ٹام فلیچر نے بتایا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے مرکزی ہنگامی امدادی فنڈ سے پانچ کروڑ ڈالر جاری کیے ہیں۔ یہ رقم ان 11 ممالک کی مدد کے لیے فراہم کی گئی ہے جو ال نینو کے ممکنہ اثرات کی زد میں ہیں۔ ان ممالک میں چاڈ، ایل سلواڈور، ایتھوپیا، صومالیہ اور جنوبی سوڈان بھی شامل ہیں۔

ممکنہ طور پر تباہ کن ال نینو کے پیش نظر، اقوام متحدہ کے مختلف ادارے رکن ممالک کو پیشگی مدد فراہم کر رہے ہیں تاکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری ہو سکے۔

اس ضمن میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام(یو این ڈی پی) چلی میں نے مٹی اور ملبے کے تیز رفتار ریلوں کو روکنے کے لیے بڑے حفاظتی بند تعمیر کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

مڈغاسکر میں مسلسل آنے والے سمندری طوفانوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پانچ سالہ امدادی منصوبے پر کام جاری ہے۔

آفات سے ہونے والے نقصان میں کمی لانے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ڈی آر آر) نے نائجیریا میں گزشتہ سال حکومتی، امدادی اور ماحولیاتی شراکت داروں کو ایک جگہ جمع کیا تاکہ تنازعات اور موسمیاتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ محفوظ رہائش گاہوں کی تعمیر کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

یمن میں پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) اور اس کے شراکت داروں نے مقامی آبادی کی قیادت میں سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات میں مدد فراہم کی ہے۔