سوڈان جنگ ختم کرنے کے لیے جنیوا میں امن مذاکرات
اصل اشاعت: یو این نیوز · اقوام متحدہ کے شکریے کے ساتھ شائع · اصل خبر ↗
سوڈان میں جاری لڑائی بند کرانے اور سنگین انسانی بحران میں کمی لانے کے لیے جنیوا میں بات چیت جاری ہے جہاں دو درجن ممالک کے نمائندے ایسے پرامن سیاسی نظام کی جانب پیش رفت پر غور کر رہے ہیں جو سوڈان کے تمام عوام کی نمائندگی کرے۔
سوڈان کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے پیکا ہاویستو نے اس اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آگے بڑھنے کے لیے قابل عمل راستے تلاش کریں اور اپنے روابط اور اثرورسوخ سے کام لیتے ہوئے متحارب فریقین کے درمیان اعتماد سازی کریں تاکہ جامع جنگ بندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
سوڈان میں ملکی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور اس کے متحارب عسکری دھڑے (آر ایس ایف) کے درمیان جاری جنگ اب چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ دونوں فریق ماضی میں اتحادی تھے اور 2021 میں مشترکہ طور پر فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔
سوئزرلینڈ کے سٹیٹ سیکرٹری الیگزینڈر فاسل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی اب ڈرون جنگ بن چکی ہے جس میں زیادہ تر عام شہری مارے جا رہے ہیں۔ دارفور، کردفان اور ملک کے دیگر علاقوں میں قحط جیسی صورتحال بدستور برقرار ہے اور یہ جنگ ہی لوگوں کو بھوک اور افلاس کی جانب دھکیل رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنیوا کنونشن کے تحت شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی رسائی کو جنگ بندی یا مسئلے کے سیاسی حل تک موخر نہیں کیا جا سکتا۔
لاکھوں لوگ امداد کے منتظر
الیگزندر فاسل نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق، اس وقت سوڈان بھر میں تقریباً تین کروڑ 40 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارہ اطفال (یونیسیف) کی تنبیہات کا حوالہ بھی دیا جن کے مطابق ملک میں اس وقت 80 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال نہ صرف بچوں کے حق تعلیم کی خلاف ورزی بلکہ مستحکم سوڈان کے مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ تنازع سے منسلک جنسی تشدد ایک مرتبہ پھر شہری آبادی کو خوفزدہ کرنے اور اس کی تذلیل کے لیے استعمال ہونے لگا ہے۔ ایسے واقعات میں عام طور پر لوگوں کو ان کی نسلی شناخت یا کسی فریق سے مبینہ وابستگی کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جنیوا مذاکرات میں جنگ بندی کی کوششوں کے ساتھ ایک ایسے عبوری سیاسی مرحلے پر بھی غور ہو گا جس کی قیادت خود سوڈانی عوام کریں اور جو ان کی امنگوں کا عکاس ہو۔ پیکا ہاویستو کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے ایک جامع اور قابل اعتماد سیاسی مکالمے کی ضرورت ہے۔
امن کے لیے عالمی کوششیں
سوڈان میں امن کی کوششوں اور اقدامات کے درمیان ہم آہنگی بہتر بنانے کے لیے ہونے والے مشاورتی اجلاس میں تنازع کے دونوں فریقین کی نمائندگی نہیں ہے۔ اس اجلاس کا مقصد مختلف ثالثوں کی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
اجلاس میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی اہم علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں سے ملاقاتیں متوقع ہیں جن میں امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر پر مشتمل کواڈ گروپ بھی شامل ہے۔
علاوہ ازیں پانچ عالمی اداروں کے تحت قائم رابطہ کاری کے طریق کار سے وابستہ نمائندوں کے ساتھ بھی ان کی بات چیت ہونا ہے۔ اس گروپ میں افریقی یونین، مشرقی افریقی تنظیم برائے ترقی (آئی جی اے ڈی)، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب لیگ شامل ہیں۔