جمعہ، ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶ء حیدرآباد۲۶°ابر آلود
روزنامہ · حیدرآباد، تلنگانہ
بانی: معین فاروقی مرحوم
صفحۂ اول پر واپس →
عالمی

درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سے بڑھتا اضافہ قابو میں لانا ممکن، رپورٹ

یو این نیوز · بدھ، ۲۱ اکتوبر ۲۰۲۶ء

اصل اشاعت: یو این نیوز · اقوام متحدہ کے شکریے کے ساتھ شائع · اصل خبر ↗

عالمی حدت میں قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ اضافے کو روکنے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بڑے پیمانے پر کمی لانا لازم ہے اور اسی صورت زمین کے درجہ حرارت کو رواں صدی کے اختتام تک مقررہ حد میں رکھا جا سکتا ہے۔

گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں صدی کے وسط میں عالمی حدت عروج پر پہنچ جائے گی تاہم اسے 1.7 سے 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان محدود رکھنا ممکن ہے۔

اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ 2025 کی سطح کے مقابلے میں 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 18 فیصد، 2035 تک 45 فیصد اور 2040 تک 69 فیصد کمی لائی جائے۔

امید افزا پیش رفت

رپورٹ کے اجرا پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ وقتی طور پر درجہ حرارت میں اضافے کا 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کرنا دنیا کے لیے اس مسئلے پر شکست کے مترادف نہیں۔ اب بھی اس اضافے کو ممکنہ حد تک کم اور مختصر مدت تک محدود رکھا جا سکتا ہے اور رواں صدی کے اختتام تک دوبارہ 1.5 ڈگری کی حد سے نیچے لایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کے مواقع پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ موجود ہیں۔

2015 میں منظور کیے جانے والے پیرس معاہدے میں عالمی حدت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا اور اس کے بعد قابل تجدید توانائی کے شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ کوئلے اور تیل سے حاصل ہونے والی توانائی کی مجموعی فراہمی میں اضافہ بھی ماضی کے اندازوں کے مقابلے میں سست رہا ہے جبکہ کئی ممالک میں موسمیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

یونیپ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے موسمیاتی اقدامات میں تاخیر کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1.5 ڈگری کی حد سے اوپر رہنے والا ہر اضافی سال موسمیاتی اثرات اور خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔ ان حالات میں درجہ حرارت میں اضافے کی بلند ترین سطح کو کم سے کم رکھنے اور رواں صدی کے اختتام تک اسے دوبارہ 1.5 ڈگری تک لانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا ہو گا اور یہ ہدف حاصل کرنا ممکن ہے۔

گرم دنیا، تباہ کن نتائج

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ پالیسیاں برقرار رہیں تو رواں صدی کے دوران عالمی حدت میں اضافہ 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جو اس کے بعد بھی بڑھتا چلا جائے گا۔

پیرس معاہدے کے تحت رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اپنے قومی منصوبے پیش کریں جنہیں ملکی سطح پر طے شدہ موسمیاتی اہداف (این ڈی سی) کہا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ، اگر تمام ممالک اپنے پیش کردہ وعدوں پر عملدرآمد بھی کر لیں اور اس کے بعد بھی اسی نوعیت کی کوششیں جاری رکھیں تو تب بھی عالمی حدت کو 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہی محدود کیا جا سکے گا۔

یہ اندازے گزشتہ سال کی پیش گوئیوں کے مقابلے میں زیادہ تشویش ناک ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ عالمی موسمیاتی معاہدے سے الگ ہو چکا ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے متعلق گزشتہ رپورٹ کے اجرا کے بعد رکن ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے نئے موسمیاتی منصوبوں سے مجموعی صورتحال میں تقریباً کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔

حدت کے خلاف عالمی اہداف

رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پہلے عالمی جائزے کے دوران طے کیے گئے اہداف پر عملدرآمد کو تیز کیا جائے۔

یہ اہداف درج ذیل ہیں:

  • 2030 تک قابل تجدید توانائی کی پیداواری صلاحیت میں تین گنا اضافہ اور توانائی کی کارکردگی میں بہتری کی سالانہ رفتار کو دو گنا کرنے کے اقدامات۔
  • توانائی کے نظام میں معدنی ایندھن، یعنی کوئلے، تیل اور قدرتی گیس کا استعمال بتدریج ترک کرنے کی کوششیں۔
  • کاربن ڈائی آکسائیڈ کے علاوہ دیگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی بڑے پیمانے پر کمی لانا۔
  • جنگلات کی کٹائی اور ان کے انحطاط کو روکنا اور ان کی بحالی۔
  • رپورٹ کے مطابق، ان میں سے بیشتر اہداف پر پیش رفت اب بھی مطلوبہ رفتار سے کم ہے۔
  • عالمی جائزے کا دوسرا مرحلہ آئندہ مہینے ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والی اقوام متحدہ کی 31ویں موسمیاتی کانفرنس(کاپ 31) کے موقع پر شروع ہو گا۔