جمعہ، ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶ء حیدرآباد۲۶°جزوی ابر آلود
روزنامہ · حیدرآباد، تلنگانہ
بانی: معین فاروقی مرحوم
صفحۂ اول پر واپس →
قومی

زرعی شمسی توانائی کی عالمی کانفرنس 2026

پریس انفارمیشن بیورو · جمعرات، ۲۲ اکتوبر ۲۰۲۶ء

دوسرا دن: ریاستی قیادت، جدید ترین ٹیکنالوجی اور مخلوط مالیاتی طریقۂ کار پر توجہ

زرعی شمسی توانائی کی عالمی کانفرنس 2026 کے دوسرے دن ریاستی پالیسی سازی میں قیادت، تکنیکی جدت، نجی شعبے کی شمولیت اور موسمیاتی مالیات کے حل کے حوالے سے مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کو فروغ ملا۔

بین الاقوامی ادارہ برائے پائیدار ترقی (آئی آئی ایس ڈی) اور توانائی، ماحولیات اور پانی کی کونسل (سی ای ای ڈبلیو) کے مشترکہ اہتمام میں وزارتی اجلاس کا ایک خصوصی سلسلہ منعقد کیا گیا، جس میں اڈیشہ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، راجستھان اور بہار کے توانائی اور زراعت کے ریاستی وزراء نے شرکت کی۔ انہوں نے زرعی شمسی توانائی کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے وسعت دینے کے لیے ریاستی سطح کے طریقۂ کار پیش کیے۔ اس اجلاس نے ریاستوں کو سرمایہ کاری کے مواقع پیش کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کیا، جس میں زمین کے استعمال کے اختراعی نمونے، ریاستی سطح پر بجلی کی قیمتوں میں مراعات اور مقامی زرعی حالات و فصلوں کی نوعیت کے مطابق پی ایم کُسُم اسکیم میں تبدیلیاں شامل تھیں۔ تبادلۂ خیال میں زرعی شمسی توانائی میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں ریاستی حکومتوں کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

اتر پردیش کے وزیر توانائی جناب اروند کمار شرما نے ریاست کے وسیع زرعی رقبے، مختلف اقسام کی فصلوں اور شمسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کو زرعی شمسی توانائی کے لیے اہم فوائد قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کھیتی کے ساتھ شمسی بجلی پیدا کرنے سے زمین کا بہتر استعمال ممکن ہوگا اور کسانوں کے لیے آمدنی کا ایک اضافی ذریعہ پیدا ہوگا۔ چھتوں پر شمسی توانائی کے نظام اور بجلی کے گرڈ کے بنیادی ڈھانچے میں اتر پردیش کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرین انرجی کوریڈور -III قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کی ترسیل کو مزید مستحکم کرے گا۔ انہوں نے چھوٹے اور معمولی رقبے کے کسانوں کے لیے موزوں مالیاتی نمونوں اور ٹیکنالوجی کی ضرورت پر بھی زور دیا، جو ریاست میں زرعی زمینوں کے تقریباً 80 فیصد حصے کے مالک ہیں۔ سرمایہ کاروں کو ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ زرعی شمسی توانائی کے امکانات بے پناہ ہیں۔ جو لوگ زرعی شمسی توانائی کے شعبے سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں، انہیں اتر پردیش کا رخ کرنا چاہیے۔ ‘‘ انہوں نے سرمایہ کاروں کو بجلی کے گرڈ سے رابطے اور پیدا ہونے والی بجلی کی ترسیل کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

اتر پردیش کے وزیر زراعت جناب سوریہ پرتاپ شاہی نے ریاست کے اس منصوبے کو اجاگر کیا، جس کے تحت بجلی کے بل معاف کیے جانے والے 16 لاکھ زرعی ٹیوب ویلوں کو مخصوص گرڈ کے بنیادی ڈھانچے کی مدد سے شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسانوں کے زمین کی ملکیت کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے اور فصلوں کے انتخاب اور زرعی شمسی توانائی کے طریقوں سے متعلق منظم تربیت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کسانوں کی صلاحیت سازی کے لیے کرشی وگیان کیندروں، زرعی یونیورسٹیوں اور تکنیکی اداروں سے استفادہ کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس کے ساتھ ہی زرعی شمسی توانائی کو زرعی تنوع اور کسانوں کی معاونت کے لیے جاری موجودہ اقدامات سے مربوط کرنے پر زور دیا۔ ریاست کی معیشت میں کسانوں کے مرکزی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ اتر پردیش کی زراعت اور اس کے کسان، ایک طرح سے، ہمارے معاشی نظام کی شہ رگ ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کسانوں کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ان کی زمین کی ملکیت محفوظ رہے گی۔

مدھیہ پردیش کے نئی اور قابلِ تجدید توانائی کے وزیر جناب راکیش شکلا نے کسانوں کی فلاح و بہبود کے ایجنڈے کے تحت زرعی شمسی توانائی، شمسی توانائی کے استعمال اور بیٹریوں میں توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کو فروغ دینے کے لیے ریاست کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مدھیہ پردیش میں 2026 کو کسانوں کی فلاح و بہبود کے سال کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر شمسی پینلوں کے نیچے کھیتی باڑی شروع ہو چکی ہے اور ریاست بیٹریوں میں توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر بھی پیش رفت کر رہی ہے، جن کے لیے ٹینڈر کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے اومکاریشور منصوبے سمیت قابلِ تجدید توانائی کے وسیع تر بنیادی ڈھانچے کو بھی اجاگر کیا۔ زرعی شمسی توانائی کے شعبے میں ریاست کی پیش رفت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ زرعی شعبے میں ہمارے یہاں کچھ ایسے پلانٹ ہیں، جہاں شمسی پینلوں کے نیچے کھیتی باڑی کی جاتی ہے۔ مدھیہ پردیش میں چند مقامات پر ایسے منصوبے شروع ہو چکے ہیں اور ہم اس سمت میں مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس میں بیٹریوں میں توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں، جن کے لیے ہم ٹینڈر کا عمل بھی مکمل کر چکے ہیں۔ ‘‘

بہار کے وزیر توانائی جناب شلیش کمار منڈل نے فیڈر کی علیحدگی اور شمسی توانائی کے نظام سے مربوط کرنے کے ذریعے زرعی بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے ریاست کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بہار میں تقریباً 2,700 زرعی فیڈروں پر کام آگے بڑھایا گیا ہے اور ریاستی حکومت نے انہیں شمسی توانائی سے مربوط کرنے کے لیے مالی معاونت کی منظوری دے دی ہے۔ شمسی توانائی سے ریاست کی دیرینہ واقفیت اور قابلِ تجدید توانائی تک رسائی کو وسعت دینے کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ بہار میں شمسی توانائی اور سورج کی روشنی کوئی نئے تصورات نہیں ہیں؛ وہاں صدیوں سے یہ روایت موجود ہے۔ ‘‘ انہوں نے اختراعی طریقۂ کار اپناتے ہوئے زرعی فیڈروں کو شمسی توانائی سے مربوط کرنے کے عمل کو آگے بڑھانے کے ریاستی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

بہار کے وزیر زراعت جناب وجے کمار سنہا نے زرعی شمسی توانائی کو کسانوں کی آمدنی بڑھانے، فصلوں کے تنوع کو فروغ دینے اور دیہی روزگار پیدا کرنے کا ایک موقع قرار دیا۔ انہوں نے زرعی اداروں، مالیاتی اداروں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ کاروباری اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے تحقیق، کسانوں میں بیداری اور تربیت کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ملک کی افرادی قوت میں بہار کے تعاون کو بھی زرعی شمسی توانائی کے وسیع تر فروغ اور نفاذ کے لیے ایک موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ بہار سے بڑی تعداد میں محنت کش آتے ہیں اور ملک بھر میں افرادی قوت کا حصہ بنتے ہیں۔ کئی ریاستیں بہار سے آنے والی اس افرادی قوت پر انحصار کرتی ہیں۔ ‘‘

اڈیشہ کے نائب وزیر اعلیٰ جناب کنک وردھن سنگھ دیو نے اعلان کیا کہ ریاست اپنی مخصوص زرعی شمسی توانائی پالیسی 2026 کو حتمی شکل دے رہی ہے، جس کے تحت 2030 تک 1 گیگاواٹ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت ضروری ہوگا کہ منصوبوں کے کم از کم 90 فیصد مقامات قابلِ کاشت رہیں، کسانوں کی رضامندی اور فصلوں کی بیمہ کاری کا تحفظ کیا جائے اور کسانوں کو یہ سہولت حاصل ہو کہ وہ خود منصوبوں کے مالک بن سکیں یا اپنی زمین پٹے پر دے سکیں، جبکہ کھیتی باڑی بھی جاری رکھ سکیں۔

سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اڈیشہ، گرڈکو کے ذریعے 25 سالہ بجلی خرید معاہدے، گرڈ سے رابطے اور سرمایہ کاری کے لیے مراعات فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے اس پالیسی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ یہ سرمایہ کاروں کو یقین دہانی فراہم کرتی ہے : گرڈکو کے ساتھ 25 سالہ بجلی خرید معاہدہ، بجلی خریدنے کی ضمانت، گرڈ سے رابطہ، اور کھلی رسائی و مسابقتی استعمال کی آزادی۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اڈیشہ اپنی مخصوص زرعی شمسی توانائی پالیسی 2026 کو حتمی شکل دے رہا ہے، جس سے ریاست میں اس شعبے کے لیے ایک مخصوص پالیسی ڈھانچہ قائم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

زرعی شمسی توانائی کے پِچ ہب کا اہتمام انڈین نیشنل سولر انرجی فیڈریشن (این ایس ای ایف آئی) نے کیا۔ اس میں ابتدائی مرحلے کے اختراع کاروں اور نئے کاروباری اداروں نے ایسے زرعی شمسی توانائی کے حل پیش کیے، جن میں ایک ہی زمین کو دو مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور جن کے لیے بینکوں سے مالی اعانت حاصل کرنا ممکن ہو۔ ان حلوں کو قومی اداروں (این آئی ایس ای، این آئی بی ای)، سرمایہ فراہم کرنے والے اداروں اور صنعت کے رہنماؤں پر مشتمل ماہرین کی جیوری کے سامنے پیش کیا گیا۔

فراؤن ہوفر آئی ایس ای اور سن سیڈ اے پی وی نے نئی نسل کے حل پیش کیے، جن میں جدید شمسی ٹریکنگ نظام، پینلوں کو متحرک انداز میں جھکانے کی ٹیکنالوجی، نیم شفاف فوٹووولٹائک (پی وی) ماڈیولز اور مائیکرو کلائمٹ کے لیے مٹی کے سینسر شامل تھے۔ یہ ٹیکنالوجیز خاص طور پر گرم مرطوب اور خشک آب و ہوا کے حالات کے لیے تیار کی گئی ہیں۔

انڈو جرمن چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام منعقدہ اس مذاکرے میں این ٹی پی سی گرین انرجی، فرسٹ سولر اور یورپ کی معروف کمپنیوں سمیت ہندوستانی اور بین الاقوامی منصوبہ سازوں نے شرکت کی۔ اس میں سپلائی چین کو مقامی سطح پر فروغ دینے، معیارات کی تیاری اور بازار میں یقینی صورتِ حال پیدا کرنے سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ایک اعلیٰ سطحی گول میز اجلاس میں کثیر ملکی ترقیاتی بینکوں، مالیاتی اداروں اور تجارتی قرض فراہم کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ان میں عالمی بینک، کے ایف ڈبلیو، یورپی سرمایہ کاری بینک اور انڈین رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی (آئی آر ای ڈی اے) شامل تھے۔

شرکاء نے زرعی شمسی توانائی کے منصوبوں کو تیزی سے وسعت دینے کے لیے درکار مالیاتی طریقۂ کار کا جائزہ لیا۔ ان میں خطرات کو کم کرنے کے اقدامات، رعایتی قرض کی سہولتیں اور مخلوط مالیاتی ڈھانچے شامل تھے، جو بڑے پیمانے پر نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عالمی سطح پر نوجوانوں کے نقطۂ نظر کو اہمیت دیتے ہوئے، معروف اداکارہ اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ( یو این ڈی پی ) کی بھارت میں یوتھ چیمپئن سنجنا سنگھی نے کانفرنس میں ایک خصوصی غیر رسمی تبادلۂ خیال میں شرکت کی۔ سنجنا نے نوجوانوں کی قیادت میں برادری کی سطح پر حکمت عملی اپنانے کی وکالت کی اور غذائی تحفظ، قابلِ تجدید توانائی اور نوجوانوں کو متحرک کرنے کے باہمی تعلق کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی شمسی توانائی اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے متعدد اہداف ( ایس ڈی جیز ) کے حصول میں معاون ہے، نیز دیہی نوجوانوں کو براہِ راست بااختیار بنانے اور ان کے ذرائع معاش کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

دن کے اختتام پر ایک انٹرایکٹو ڈیجیٹل پوسٹر گیلری پیش کی گئی، جس میں فعال زرعی شمسی توانائی کے منصوبوں اور دنیا بھر کے مطالعاتی جائزوں سے حاصل ہونے والے تجربات کو اجاگر کیا گیا۔ اس گیلری نے شرکاء کو منصوبوں کے نفاذ اور انہیں بڑے پیمانے پر وسعت دینے کی حکمت عملیوں سے متعلق عملی معلومات فراہم کیں۔

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-6533

ماخذ: پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی)، حکومتِ ہند · اصل ریلیز ↗