انڈیا میں نوجوان مظاہرین پر کریک ڈاؤن قابل تشویش، انسانی حقوق ماہرین
اصل اشاعت: یو این نیوز · اقوام متحدہ کے شکریے کے ساتھ شائع · اصل خبر ↗
انسانی حقوق سے متعلق اقوام کے ماہرین نے انڈیا میں نوجوانوں کے مظاہروں پر پولیس کے متواتر کریک ڈاؤن کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پرامن احتجاج کے حق کا احترام یقینی بنائیں۔
ماہرین نے کہا ہے کہ پرامن مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی ایک وسیع تر اور تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے طلبہ کے خلاف طاقت استعمال کی جس میں لاٹھی چارج بھی شامل ہے اور ہزاروں افراد کو احتجاجی مظاہروں میں شرکت سے روکا گیا۔
ماہرین نے انڈیا کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کو فوری طور پر بند کریں، اجتماعات پر عائد کی گئی پابندیاں واپس لیں اور ڈیجیٹل نگرانی کے غلط استعمال اور انٹرنیٹ کو بند کرنے سے گریز کریں۔
تشدد، حراستیں، بدسلوکی
گزشتہ چند ماہ کے دوران انڈیا کے مختلف حصوں میں لاکھوں طلبہ اور ان کے حامی تعلیمی نظام سے متعلق حکومتی فیصلوں اور انتخابی فہرستوں سے ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کے خلاف پرامن احتجاج کرتے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اس اخراج سے 13 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ، ان مظاہروں میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ بعض نے دوران حراست بدسلوکی کا نشانہ بنائے جانے کی شکایت بھی کی ہے۔ حراستوں کے دوران جنسی تشدد اور صنفی بنیاد پر دیگر اقسام کے استحصال کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
نئی دہلی میں 7,000 سے زیادہ نوجوانوں، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا اور سیاسی جماعتوں کے ارکان کو ناجائز طور پر گرفتار کر کے دور دراز کے حراستی مراکز میں منتقل کیا گیا۔ مبینہ طور پر ان کے موبائل فون ضبط کر لیے گئے اور احتجاج سے متعلق تمام مواد حذف کر دیا گیا۔
قانون کا غلط استعمال
اقوام متحدہ کے ماہرین نے ایسی اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ انڈیا کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 163 کو عوامی اجتماعات پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کرنے، پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل کرنے اور انٹرنیٹ کی سہولت بند کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت انڈیا کی بنیادی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہیں۔ ان میں پرامن اجتماع اور اظہار رائے کی آزادی، انفرادی آزادی اور تحفظ کے حق نیز حقوق کے دفاع کے حق کی پامالی بھی شامل ہے۔ پرامن اجتماعات پر عائد کی جانے والی ہر پابندی کا قانونی جواز ہونا چاہیے، اس کا مقصد جائز ہو اور وہ ضرورت و تناسب کے اصولوں پر پوری اترتی ہو۔
ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان سے وابستہ اہلکاروں کے طرزعمل کی تحقیقات کے لیے بلا تاخیر ایک آزاد، غیر جانبدار اور جامع تحقیقاتی عمل شروع کیا جائے تاکہ مکمل جوابدہی یقینی بنائی جا سکے، متاثرین کو انصاف فراہم ہو اور انہیں مناسب تلافی و ازالہ مہیا کیا جا سکے۔
حکومت کو ضمانت دینی چاہیے کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں اور طلبہ سمیت تمام شہریوں کے اس جمہوری حق کا تحفظ یقینی بنایا جائے کہ وہ اپنے تحفظات ظاہر کرنے کے لیے جمع ہو کر اپنی آواز بلند کر سکیں۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔