خوراک کی کمیابی سے افغانستان میں قحط کا خطرہ، یو این ادارے
اصل اشاعت: یو این نیوز · اقوام متحدہ کے شکریے کے ساتھ شائع · اصل خبر ↗

افغانستان میں ایک کروڑ 60 لاکھ افراد کو بحرانی سطح کی غذائی قلت کا سامنا ہے جن میں سے 34 لاکھ انتہائی ہنگامی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور بہت سے لوگ خوراک کی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کی ترجمان اولگا چیریوکوو نے افغانستان کے دورے سے واپسی پر بتایا ہے کہ اس بحران کا تعلق محض خوراک کی دستیابی سے نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا لوگ اسے خرید سکتے ہیں، انہیں روزگار سے آمدنی حاصل ہو سکتی ہے اور قحط کے بڑھتے خطرے سے بچنے کے لیے ان کے پاس کچھ باقی بھی ہے یا نہیں۔
غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کے مطابق، اگست سے اکتوبر کے تک شدید غذائی قلت اور خوراک کی کمی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی۔ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے لوگوں کی صلاحیت برسوں کے تنازعات، معاشی تنگ دستی، خشک سالی اور دیگر بحرانوں نے تقریباً ختم کر دی ہے۔ اس سے پہلے کہ غریب خاندان اپنی تمام تر گنجائشیں اور وسائل کھو بیٹھیں، ان کی مدد کے لیے فوری اور مسلسل اقدامات کیے جانا چاہئیں۔
خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں کے نتائج
اولگا چیریوکوو نے کہا ہے کہ خواتین پر پابندیوں کے اثرات کسی آئندہ غذائی بحران کے بعد بھی طویل عرصہ تک ملک کے مستقبل پر مرتب ہوتے رہیں گے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ اطفال (یونیسیف) کے مطابق، اگر موجودہ پابندیاں برقرار رہیں تو 2030 تک افغانستان میں خواتین اساتذہ کی تعداد میں 20 ہزار اور خواتین طبی کارکنوں کی تعداد میں 5,400 تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔
غذائیت کے معاملے میں بھی اس کے اثرات نہایت اہم ہیں کیونکہ غذائی قلت کا تعلق ماؤں کی صحت، طبی سہولتوں تک رسائی، متنوع اور متوازن خوراک کے حصول، تعلیم اور روزگار کمانے کی صلاحیت سے ہے۔ ان شعبوں کو کمزور کرنے کا مطلب لوگوں کی اس صلاحیت کو نقصان پہنچانا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بچوں کی حفاظت اور بہتر پرورش کر سکتے ہیں۔
ہنگامی امداد سے آگے بڑھنے کی ضرورت
اولگا چیریوکوو نے کہا ہے کہ انسانی امداد کی فراہمی ناگزیر ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے، تاہم افغانستان کے بحران سے نمٹنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ امداد لوگوں کی جانیں بچا رہی ہے لیکن روزگار، بنیادی سہولتوں اور معاشی مواقع میں مسلسل سرمایہ کاری ہی لوگوں کو ایسے حالات میں زندگی گزارنے کے قابل بنا سکتی ہے جہاں انہیں ہنگامی امداد پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کو بحالی کے لیے سرمایہ کاری درکار ہے۔ اس میں زراعت اور دیہی روزگار، مقامی منڈیوں کی مضبوطی، ملازمتوں کے مواقع، پانی کی فراہمی کے نظام، صحت اور غذائیت کی سہولتیں اور خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع شامل ہیں۔
اولگا چیریوکوو نے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما کے آنے سے پہلے ہی ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے دوروں سے یہ حقیقت مزید واضح ہو کر سامنے آئی ہے کہ موجودہ صورتحال کو محض ہنگامی بحران نہیں سمجھا جا سکتا۔ اب ضرورت ہے کہ آگے بڑھنے کا ایک ایسا قابل عمل راستہ تلاش کیا جائے جس کے ذریعے لوگوں کی مستقل بنیاد پر مدد کی جا سکے۔
یو این امدادی اقدامات
اقوام متحدہ کے اداروں اور امدادی شراکت داروں نے جنوری سے جولائی کے دوران افغانستان میں 83 لاکھ افراد کو کم از کم ایک نوعیت کی امداد فراہم کی ہے۔ یہ ادارے اب بھی ہنگامی امداد اور بنیادی ضروری خدمات مہیا کر رہے ہیں۔
- یونیسیف لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے ابتدائی تعلیم اور مقامی سطح پر تعلیمی پروگراموں کی معاونت کرتا ہے۔
- 'ڈبلیو ایف پی' لوگوں کو غذائی مدد دیتا ہے اور ایسے طبی مراکز اور علاج معالجے کے پروگراموں کی معاونت کرتا ہے جو بچوں کو غذائی قلت سے صحت یاب ہونے میں مدد دیتے ہیں۔
- عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) ہمسایہ ممالک سے مشرقی افغانستان میں واپس آنے والے افراد اور مقامی آبادیوں کو بنیادی طبی سہولتیں فراہم کرتا ہے اور لوگوں ضروری طبی خدمات تک رسائی دلانے میں مدد دے رہا ہے۔