’’لوگوں اور کھیتوں دونوں کو بچائیں‘‘: مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے کرنال میں تراوڑی سے ملک گیر ’’کھیت بچاؤ ابھیان‘‘ شروع کیا
"وزیر اعظم جناب نریندر مودی کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ ہماری زمین اور کھیت صحت مند کیوں نہیں رہ سکتے؛ مٹی کو بنجر ہونے سے بچانا ہمارا قومی فریضہ ہے‘‘: جناب شیوراج سنگھ ہریانہ کے لیے بڑا دیہی ترقی کا تحفہ: 28422 نادار کنبوں کے لیے 1343 کروڑ روپے کے مستقل مکانات کی منظوری؛ مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ نے منظوری نامہ سونپا جناب شیوراج سنگھ کا کہنا ہے کہ’’ملک گیر مہم 22 اکتوبر سے 30 نومبر تک چلائی جائے گی: عوامی سطح پر بیداری پیدا کرنے کے لیے سائنس داں ملک بھر کے مواضعات کا دورہ کریں گے‘‘ جناب شیوراج سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’ کفایتی کھادوں کا مطلب ان کا بے دریغ استعمال نہیں ہے: حکومت سبسڈی کی مد میں 1.5 لاکھ کروڑ روپے سے زائد رقم فراہم کر کے کاشتکاروں کو راحت دے رہی ہے، لیکن یوریا اور ڈی اے پی کا استعمال صرف ضرورت کے مطابق ہی کیا جانا چاہیے ‘‘ جناب شیوراج سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’ کیمیائی کھادیں اور کیڑے مار ادویات انسانی جسم کو بیماریوں کی آماجگاہ بنا رہی ہیں: کاشتکاروں کو کھاد ڈالنے سے پہلے 'سائل ہیلتھ کارڈ' ضرور چیک کرنا چاہیے اور متوازن غذائی انتظام کو اپنانا چاہیے ‘‘ جناب شیوراج سنگھ چوہان کا کہنا ہے کہ ’’ ہریانہ کے محنتی کسانوں نے پورے ملک کو ایک نئی راہ دکھائی ہے: وہ مدھیہ پردیش میں بھی زراعت کو تبدیل کر رہے ہیں‘‘ جناب شیوراج سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’ سبز امونیا ہندوستان کو کھاد کی پیداوار میں خود کفیل بنائے گا: فصلوں کی ہیر پھیر کا طریقہ اپنائیں اور فصلوں کی باقیات کو جلا کر فائدہ مند کیڑوں اور کینچووں کو نہ ماریں‘‘ جناب شیوراج سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’ کم از کم آدھے ایکڑ سے شروعات کریں: لاگت کو کم کرنے اور پیداوار بڑھانے کے لیے بیجامرت اور گھن جیوامرت کا استعمال کرتے ہوئے فطری طریقہ کاشت کو اپنائیں ‘‘ کاشتکاروں نے تراوڑی کی مقدس سرزمین پر مرکزی وزیر زراعت جناب شیو راج سنگھ کے ہمراہ 'بھارت ماتا کی جے' کے نعرے لگاتے ہوئے، کھادوں کا متوازن استعمال کرنے اور اپنے کھیتوں کی حفاظت کرنے کا ایک پختہ اجتماعی عہد کیا
زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے آج ہریانہ کے ضلع کرنال کے تاریخی قصبے تراوڑی سے ملک گیر 'کھیت بچاؤ ابھیان' کا باقاعدہ آغاز کیا۔ ملک بھر کے کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے) اور زرعی اداروں سے آن لائن جڑنے والے لاکھوں کسانوں، زرعی سائنسدانوں اور حکام سے خطاب کرتے ہوئے، جناب چوہان نے متنبہ کیا کہ اگر کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے غیر متوازن استعمال کو قابو میں نہ لایا گیا، تو بالآخر زمین فصلیں پیدا کرنے سے انکار کر سکتی ہے اور انسانی جسم بیماریوں کی آماجگاہ بن سکتا ہے۔ اس موقع پر، انہوں نے 22 اکتوبر سے 30 نومبر 2026 تک ملک کے ہر گاؤں میں ایک جامع عوامی بیداری مہم چلانے کی اپیل کی۔ وزیر دیہی ترقی کی حیثیت سے، انہوں نے ہریانہ کے غریب خاندانوں کے لیے ایک بڑے فائدے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے ہریانہ کے وزیر زراعت جناب شیام سنگھ رانا کو پردھان منتری آواس یوجنا–گرامین کے تحت 28,422 پکے مکانات کی تعمیر کے لیے 1,343.06 کروڑ روپے کی مالی امداد کا منظوری خط سونپا۔
ہریانہ کے کاشتکاروں نے پورے ملک کے لیے آگے کا راستہ دکھایا ہے
تراوڑی کی تاریخی سرزمین پر منعقدہ کسانوں کے ایک بڑے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر زراعت جناب شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ ہریانہ کے کسان اپنی محنت، لگن اور نئے طریقوں کے تجربات کرنے کے جذبے کی وجہ سے بے مثال ہیں۔ انہوں نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ہریانہ کے ترقی پسند کسان نہ صرف اپنی ریاست میں بلکہ مدھیہ پردیش جیسی دیگر ریاستوں میں بھی زرعی تبدیلی کا ایک نیا باب لکھ رہے ہیں، جہاں وہ جدید اور قدرتی کھیتی کے طریقوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ ملک بھر میں زرعی ترقی پر ہریانہ کے اثر و رسوخ پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہریانہ راستہ دکھاتا ہے، تو پورا ملک اسی سمت میں آگے بڑھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی بھی دھرتی ماں کی بگڑتی ہوئی صحت اور ملک کی زرعی زمین کی حالت کو بہتر بنانے کی ضرورت پر گہری تشویش محسوس کرتے ہیں۔
پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت ہریانہ کے بڑے فوائد
پروگرام کے دوران، جناب شیو راج سنگھ چوہان نے دیہی ترقی کے مرکزی وزیر کی حیثیت سے ہریانہ کے دیہی غریب خاندانوں کے لیے ایک بڑا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت ریاست میں اہل غریب خاندانوں کے لیے 28,422 پکے مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ اس مقصد کے لیے 1,343 کروڑ اور 6 لاکھ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے۔ جناب چوہان نے اس اہم الاٹمنٹ کا باقاعدہ منظوری خط اسٹیج پر موجود ہریانہ کے وزیر زراعت و ہارس ہسبینڈری جناب شیام سنگھ رانا کے حوالے کیا۔ امید ہے کہ یہ منظوری ریاست کے ہزاروں معاشی طور پر پسماندہ خاندانوں کو اپنا پکا گھر بنانے کا خواب پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
کفایتی کھادوں کا مطلب ان کا بے دریغ استعمال نہیں ہے؛ حکومت سبسڈی کا بوجھ خود برداشت کر رہی ہے
کھاد کی قیمتوں اور کسانوں کے تئیں حکومت کے عزم کا ذکر کرتے ہوئے، مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ بین الاقوامی بازاروں میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود، وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ کسانوں پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔ حکومت 1.5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی خطیر کھاد سبسڈی خود برداشت کر رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسانوں کو یوریا کی بوری صرف 266 روپے میں اور ڈی اے پی کی بوری 1,350 روپے میں ملتی رہے۔ تاہم، انہوں نے کاشتکاروں کو متنبہ کیا کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ سستی کھادوں کی دستیابی ان کے بے جا استعمال کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کہا، 'کفایتی قیمتوں پر کھاد ملنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم اپنے کھیتوں میں یوریا کی چار چار بوریاں ڈالتے رہیں۔ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ زیادہ کھاد ڈالنے سے زیادہ پیداوار ہوگی۔ ضرورت کے بغیر کھاد کا استعمال اپنی محنت کی کمائی کو ضائع کرنے اور مٹی کو زہر دینے جیسا ہے۔ جس طرح ایک صحت مند انسان بغیر بیماری کے دوائیں کھا کر بیمار ہو سکتا ہے، اسی طرح کھاد کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہماری دھرتی ماں کی صحت کو بگاڑ رہا ہے۔' انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اب سبز امونیا کے استعمال کی طرف بڑھ رہا ہے، جو مستقبل میں ملک کو کھاد کی پیداوار میں مکمل طور پر خود کفیل بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
کیڑے مار ادویات انسانی جسم کو بیماریوں کی آماجگاہ بنا رہی ہیں؛ انسانوں اور کھیتوں دونوں کی حفاظت ہونی چاہیے
کیمیائی مادوں سے بھرپور کھیتی کے سنگین نتائج کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ زہریلی کیڑے مار ادویات اور کھادوں کے بے جا اور بے لگام استعمال سے پیدا ہونے والی خوراک کا استعمال انسانی جسم کو سنگین بیماریوں کی آماجگاہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ہوا، پانی اور خوراک انسانی بقا کے لیے ناگزیر ہیں، اور قدیم صحیفوں میں خوراک کو 'برہما' یعنی مقدس اور خدائی درجہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر خوراک خود ہی زہریلی ہو جائے، تو انسانی تہذیب کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ کوشش محض مٹی کو بچانے کی جدوجہد نہیں ہے، بلکہ زرعی زمین اور انسانی زندگی دونوں کی حفاظت کا ایک مقدس مشن ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ کھیتوں کی صحت کی حفاظت کرنا، ان پر منحصر لوگوں کی صحت کی حفاظت سے الگ نہیں ہے۔
مٹی تحفظ کے لیے تین عملی اصول
مرکزی وزیر جناب چوہان نے تین اہم اقدامات پر روشنی ڈالی جنہیں اپنا کر کسان مٹی کی زرخیزی کو برقرار رکھ سکتے ہیں اور زرعی زمین کو پیداواری بنا سکتے ہیں۔
" سائل ہیلتھ کارڈ پر مبنی کھادوں کا متوازن استعمال: کاشتکاروں کو اپنے موبائل فون پر اپنا 'سائل ہیلتھ کارڈ' چیک کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کی مٹی میں کن غذائی اجزاء کی کمی ہے۔ اس کے بعد، انہیں کھادوں کا اندھا دھند استعمال کرنے کے بجائے، ان کمیوں کو دور کرنے کے لیے صرف ضرورت کے مطابق اور متوازن مقدار میں کھادیں ڈالنی چاہئیں۔
فصلوں کی ہیر پھیر کے ذریعے فصلوں کے چکر کو تبدیل کرنا: کاشتکاروں کو بار بار دھان کے بعد گیہوں اگانے کے بجائے اپنے فصلوں کے چکر میں دالیں جیسے چنا، مسور اور ارہر شامل کرنی چاہئیں۔ دالوں کی فصلوں کی جڑیں قدرتی طور پر مٹی میں نائٹروجن جذب کرتی ہیں، جو مٹی کی زرخیزی کو بہتر بنانے اور غذائی اجزاء کی کمی کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
کم از کم آدھے ایکڑ پر قدرتی کھیتی کو اپنانا: کسانوں کو شروع میں ہی اپنی پوری زمین پر قدرتی کھیتی شروع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ان کے پاس پانچ ایکڑ زمین ہے، تب بھی انہیں کم از کم آدھے ایکڑ پر قدرتی کھیتی اپنا کر شروعات کرنی چاہیے۔ وہ گائے کے گوبر، گوموتر اور درختوں کے نیچے سے جمع کی گئی مٹی کا استعمال کر کے بیجامرت اور گھن جیوامرت تیار کر سکتے ہیں۔ اس سے گھر میں استعمال کے لیے کیمیکل سے پاک خوراک ملے گی، کاشت کی لاگت کم ہوگی اور مٹی کی صحت بہتر ہوگی۔ دو سے تین سالوں میں مٹی کی حالت بہتر ہو جائے گی اور پیداوار ان سطحوں تک پہنچ سکتی ہے جو روایتی کھیتی کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں۔
فصلوں کی باقیات کا انتظام اور کینچووں کی حفاظت، جو مٹی کے قدرتی دوست ہیں
تراوڑی کے کسانوں کی جانب سے فصلوں کی باقیات کے انتظام اور اپنی مٹی میں نامیاتی کاربن کی اعلیٰ سطح کو برقرار رکھنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے، مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ فصلوں کی باقیات کو جلانا ایک تباہ کن عمل ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کھیتوں میں آگ لگانے سے نہ صرف فضائی آلودگی پھیلتی ہے بلکہ مٹی کی اوپر اور نیچے کی تہوں میں رہنے والے کھربوں خوردبینی جاندار بھی تباہ ہو جاتے ہیں، ساتھ ہی وہ فائدہ مند کیڑے اور کینچوے بھی مر جاتے ہیں جو قدرتی کھاد بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ جاندار مٹی کی قدرتی زرخیزی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی زمین کی صحت اور پیداواری صلاحیت کو بچانے کے لیے کینچووں اور فائدہ مند کیڑوں کی حفاظت کرنا انتہائی ضروری ہے۔
22اکتوبر سے 30 نومبر 2026 تک ملک گیر سطح پر عوامی بیداری مہم چلائی جائے گی
مرکزی وزیر زراعت جناب شیو راج سنگھ چوہان نے زرعی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل، سائنسدانوں اور حکام سے اپیل کی کہ وہ اپنی لیبارٹریوں اور دفاتر سے باہر نکلیں اور 22 اکتوبر سے 30 نومبر 2026 تک ملک بھر کے دیہاتوں کا دورہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کو کسانوں کے ساتھ گاؤں کی سطح پر اجلاس اور تبادلہ خیال کا انعقاد کرنا چاہیے تاکہ مٹی کی صحت اور متوازن کھیتی کے طریقوں کی اہمیت کو واضح کیا جا سکے۔ انہوں نے زمین پر خود اس مہم میں سرگرمی سے شامل رہنے کے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ اقدام براہ راست کسانوں تک پہنچے اور ہندوستان کی زرعی زمین کو بنجر ہونے سے بچانے میں مدد ملے۔
کاشتکاروں نے ہاتھ اٹھا کر اپنے کھیتوں کی حفاظت کرنے کا عہد کیا
اپنے خطاب کے اختتام پر، مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان کی اپیل پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، وہاں موجود کسانوں نے دونوں ہاتھ اٹھائے، مٹھیاں بھینچیں اور 'بھارت ماتا کی جے' کے فلک شگاف نعروں کے درمیان ایک اجتماعی عہد لیا۔ انہوں نے عزم کیا کہ وہ دھرتی ماں کی صحت کی حفاظت کے لیے اپنے کھیتوں میں کیمیکلز کا متوازن استعمال کریں گے، اپنے فصلوں کے چکر کو تبدیل کریں گے، فصلوں کی باقیات کو جلانے سے گریز کریں گے اور رفتہ رفتہ قدرتی کھیتی کے طریقوں کو اپنائیں گے۔
اس تاریخی آغاز کے موقع پر کئی ممتاز زرعی سائنسدانوں اور انتظامی حکام نے شرکت کی، جن میں آئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل اور محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے سکریٹری ڈاکٹر مانگی لال جاٹ اور ہریانہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (زراعت) جناب وجیندر کمار کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں کسان بھی شامل تھے۔ پروگرام کے دوران معزز مہمانوں نے 'کھیت بچاؤ ابھیان' پر ایک کتابچے کا اجرا بھی کیا۔
(ش ح –ا ب ن)
U.No:6541
ماخذ: پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی)، حکومتِ ہند · اصل ریلیز ↗