جمعہ، ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶ء حیدرآباد۲۶°جزوی ابر آلود
روزنامہ · حیدرآباد، تلنگانہ
بانی: معین فاروقی مرحوم
صفحۂ اول پر واپس →
قومی

پی ایم دکش اسکیم کے تحت 2020-21 سے 2023-24 کے دوران 1,87,305 امیدواروں کو تربیت اور 96,162 کو روزگار فراہم

پریس انفارمیشن بیورو · جمعرات، ۲۲ اکتوبر ۲۰۲۶ء

دوہزار چوبیس-پچیس سے پی ایم دکش کو ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت کی پی ایم کے وی وائی اسکیم میں ضم کر دیا گیا جائزہ مطالعے کی رپورٹ کے مطابق، 90 فیصد سے زائد مستفیدین نے تربیت کو اپنے پیشہ ورانہ اہداف اور مقامی محنت بازار کی ضروریات کے مطابق پایا

پردھان منتری دکشتا اور کوشلتا سمپن ہتگراہی (پی ایم دکش) مرکزی شعبے کی ایک اسکیم ہے، جس کا آغاز 2020-21 کے دوران درج فہرست ذاتوں، دیگر پسماندہ طبقات، معاشی طور پر کمزور طبقات، غیر مطلع شدہ قبائل اور صفائی کارکنوں، بشمول کچرا چننے والوں کو منظور شدہ تربیتی اداروں کے ذریعے ہنرمندی کی تربیت فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا، تاکہ ان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے خود روزگاری اور اجرت پر مبنی روزگار کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

وزارت کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اس اسکیم کو سماجی انصاف و تفویضِ اختیار کے محکمے کے تحت کام کرنے والی 3 کارپوریشنوں کے ذریعے نافذ کیا گیا، جن میں قومی درج فہرست ذاتیں مالیات و ترقیاتی کارپوریشن (این ایس ایف ڈی سی)، قومی پسماندہ طبقات مالیات و ترقیاتی کارپوریشن (این بی سی ایف ڈی سی) اور قومی صفائی کارکنان مالیات و ترقیاتی کارپوریشن ( (ین ایس کے ایف ڈی سی) شامل ہیں۔

افسر نے بتایا کہ 2024-25 سے پی ایم دکش اسکیم کو ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت کی پی ایم کے وی وائی اسکیم میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ پی ایم دکش، پی ایم کے وی وائی کے علاوہ ایک اضافی اسکیم تھی اور ہنرمندی کی تربیت فراہم کرنے کے لیے تمام پیشہ ورانہ کردار اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ) پورٹل سے لیے گئے تھے، جو پی ایم کے وی وائی کے تحت بھی شامل تھے، اس لیے دوہری عمل درآمد سے بچنے کے لیے پی ایم دکش کو پی ایم کے وی وائی میں ضم کر دیا گیا۔

افسر نے بتایا کہ سماجی انصاف و تفویضِ اختیار کا محکمہ، کارپوریشنوں کو فنڈ جاری کرتا ہے، جو ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کی پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) کے تحت فہرست میں شامل تربیتی اداروں کو اسکیم کے رہنما اصولوں اور ورک آرڈر کے مطابق تربیت کے اخراجات کی ادائیگی کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تربیت مکمل ہونے کے بعد اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تربیت یافتہ امیدواروں میں سے کم از کم 70 فیصد کو اجرت پر مبنی روزگار اور یا خود روزگاری فراہم کریں۔ اس شرط کو پورا نہ کرنے کی صورت میں تربیتی اخراجات کی 30 فیصد رقم پر مشتمل تیسری قسط ضبط کر لی جاتی ہے۔ تربیتی اداروں کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ تربیت یافتہ امیدواروں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے متعلقہ صنعتوں کے ساتھ تعاون برقرار رکھیں۔ افسر نے مزید بتایا کہ تینوں کارپوریشنیں ہدفی گروپ کے اہل نوجوانوں کو ان کے منصوبے قائم کرنے کے لیے قرض کی سہولتیں اور معاونت فراہم کرتی ہیں، جس میں مسلسل رہنمائی اور مدد بھی شامل ہے۔

2020-21 سے 2023-24 کے دوران پی ایم دکش اسکیم کے لیے مختص کیے گئے 276.47 کروڑ روپے کے مجموعی فنڈ کے مقابلے میں اب تک 309.5 کروڑ روپے کے حقیقی اخراجات کیے جا چکے ہیں۔ افسر نے بتایا کہ 2020-21 سے 2023-24 کے دوران 1,87,305 امیدواروں کو تربیت دی گئی اور 96,162 امیدواروں کو روزگار فراہم کیا گیا۔

افسر نے مزید بتایا کہ پی ایم دکش اسکیم کے جائزے کے مطالعے سے اس کی افادیت اور تربیت کے مؤثر ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔ 90 فیصد سے زائد مستفیدین نے بتایا کہ تربیت ان کے پیشہ ورانہ اہداف اور مقامی محنت بازار کی ضروریات سے ہم آہنگ تھی، نیز اس کے ذریعے تربیت کے طے شدہ نتائج بھی حاصل ہوئے۔

اسکیم کے اثرات کے جائزے سے اعتماد، خود اعتمادی اور سماجی شناخت میں بہتری جیسے غیر مالی فوائد کا بھی انکشاف ہوا، بالخصوص خواتین اور محروم طبقات میں۔ افسر نے مزید کہا کہ پائیداری کے نتائج بھی بڑی حد تک مثبت ہیں۔ زیادہ تر مستفیدین حاصل کردہ ہنر کا مسلسل استعمال کر رہے ہیں، آمدنی میں طویل مدتی اضافے کی توقع رکھتے ہیں، اپنی ترقی کے لیے دوبارہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور خود کو اس قابل محسوس کرتے ہیں کہ وہ بیرونی مدد کے بغیر ان بہتریوں کو برقرار رکھ سکیں۔

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-6532

ماخذ: پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی)، حکومتِ ہند · اصل ریلیز ↗